MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

نگاہ عشق میں ہر دل تماشا

نگاہ عشق میں ہر دل تماشا
تماشا ہے ارے غافل تماشا

ہمارے خوں میں ہے شامل تماشا
دکھاتا کیا ہمیں قاتل تماشا

ابھی تو تم اکڑ کر چل رہے ہو
دکھاۓ گی تمہیں یہ گِل تماشا

سر بازار مجھ کو بیچتے ہیں
لگا رکھا ہے لا حاصل تماشا

تماشے چار سو ہیں زندگی میں
مرے اندر بھی میرا دل تماشا

بھنور میں ہیں تو کیا آواز مت دو
نجانے کیا کرے ساحل تماشا

مناظر آئینوں میں ڈھونڈتا ہوں
جو پھر مانگے دل بسمل تماشا

نگاہیں پھیر لو مر جائیں گے ہم
لگا رکھا ہے کیا کل کل تماشا

تماشا زندگی کو جانتے ہو
ابھی باقی ہے اک کامل تماشا

تماشائ نہ کیوں بن جائیں خاور
جو کر پاۓ ہمیں قائل تماشا

ندیم خاور

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم