MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

نہیں کہ ملنے ملانے کا سلسلہ رکھنا

نہیں کہ ملنے ملانے کا سلسلہ رکھنا
کسی بھی سطح پہ کوئی تو رابطہ رکھنا

مریں گے لوگ ہمارے سوا بھی تم پہ بہت
یہ جرم ہے تو پھر اس جرم کی سزا رکھنا

مدد کی تم سے توقع تو خیر کیا ہوگی
غریبِ شہرِ ستم ہوں’ مرا پتا رکھنا

بس ایک شام ہمیں چاہیے’ نہ پوچھنا کیوں
یہ بات اور کسی شام پر اٹھا رکھنا

نئے سفر پر روانہ ہوا ہوں از سرِ نو
جب آؤں گا تو مرا نام بھی نیا رکھنا

فصیلِ شوق اٹھانا’ ظفر ضرور مگر
کسی طرف نکلنے کا راستا رکھنا​

ظفر اقبال

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم