MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

وہ ایک خواب جو اس نے کبھی دکھایا تھا

وہ ایک خواب جو اس نے کبھی دکھایا تھا
وہ مرتے دم بھی میری آنکھ میں سمایا تھا

اندھیری رات میں چمکا وہ چاند ہو جیسے
سلگتی دھوپ میں وہ بادلوں کا سایا تھا

وہ ایک پل کہ ہنسے جس میں بے تحاشا ہم
اس ایک پل نے ہمیں عمر بھر رلایا تھا

جو آج سائے میں بیٹھے ہیں چین سے بچے
درخت میں نے ہی آنگن میں وہ لگایا تھا

ہیں کتنے روپ تمھارے تمھیں پتہ تو چلے
یہ سوچ کر ہی تمھیں آئینہ دکھایا تھا

ابھی بھی یاد ہیں تیری وہ شک بھری نظریں
اور ان کے بعد ہی تو نے مجھے گنوایا تھا

ہے بازگشت سماعت میں آج تک اس کی
جو شعر تم نے مجھے دیکھ کر سنایا تھا

کسی کے حکم کی تابع تھی سانس بھی میری
مرا وجود مرا ہو کے بھی پرایا تھا

پتہ چلا وہ تعلق ہے چند لفظوں کا
بڑے جتن سے جسے عمر بھر نبھایا تھا

پروفیسر رضیہ سبحان

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم