MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

وہ جن کو خوب تھا اپنے ہنر کا اندازہ

غزل

وہ جن کو خوب تھا اپنے ہنر کا اندازہ
ہے اپنی مات کی ان کو خبر کا اندازہ

نہ ہو فریق کوئی سامنے تو ہو کیسے
کسی فریق کو اپنے ہنر کا اندازہ

انہیں ہے زعم کہ ہم کو اسیر کر دیں گے
مگر غلط ہے کسی بے خبر کا اندازہ

ہمیں ڈرائے گا کیسے سفر سمندر کا
کہ ہم تو کر بھی چکے ہیں بھنور کا اندازہ

وہ جن کو خوف ہے منزل سے دور ہونے کا
ستارہ دیکھ کے کر لیں سفر کا اندازہ

عیاں ہے ان کا نسب ان کی گفتگو سے ہی
ہمیں کہاں تھا غزل ان کے شر کا اندازہ

ذکیہ غزل

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم