MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

وہ کرتے عذر تو یہ اور بھی گراں ہوتا

غزل

زمیں ہوتی نہیں اور نہ آسماں ہوتا

مرے بغیر یہ سونا بھرا جہاں ہوتا

ہمی نے ان کی طرف سے منا لیا دل کو
وہ کرتے عذر تو یہ اور بھی گراں ہوتا

سمجھ تو یہ کہ نہ سمجھے خود اپنا رنگ جنوں
مزاج یہ کہ زمانہ مزاج داں ہوتا

بھری بہار کے دن ہیں خیال آ ہی گیا
اجڑ نہ جاتا تو پھولوں میں آشیاں ہوتا

دماغ عرش پہ ہے تیرے در کی ٹھوکر سے
نصیب ہوتا جو سجدہ تو میں کہاں ہوتا

 

آل۔ رضا رضا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم