MOJ E SUKHAN

پاس اپنے اک جان ہے سائیں

پاس اپنے اک جان ہے سائیں​
باقی یہ دیوان ہے سائیں​

​جس کا کوئی مول نہ گاہک​
کیسی یہ دوکان ہے سائیں​

​آنسو اور پلک تک آئے​
آنسو اگنی بان ہے سائیں​

​جوگی سے اور جگ کی باتیں​
جوگی کا اپمان ہے سائیں​

​میں جھوٹا تو دنیا جھوٹی ​
میرا یہ ایمان ہے سائیں​

​جیسا ہوں جس حال میں ہوں میں​
اللہ کا احسان ہے سائیں​

​رسا چغتائی​

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم