Patharoon ko KHyaal Phopoloon Ka
غزل
پتھروں کو خیال پھولوں کا
یہ بھی دیکھا کمال پھولوں کا
ایک بل بل شکار کرنے کو
لوگ لائے ہیں جال پھولوں کا
اب چمن کی خدا ہی خیر کرے
اُس نے پوچھا ہے حال پھولوں کا
جب سے وہ شہر میں پدھارے ہیں
پڑتا جاتا ہے کال پھُولوں کا
جب بھی خوشبو ہوئی ہے آلودہ
چہرہ دیکھا نڈھال پھولوں کا
آگ لہجے فراز پھول بنے
آئے ایسا بھی سال پھُولوں کا
سرفراز احمد فراز دہلوی
Sarfaraz Ahmed Faraz Dehlvi