MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

پرانے رنگ میں اشک غم تازہ ملاتا ہوں

پرانے رنگ میں اشک غم تازہ ملاتا ہوں
در و دیوار پر کچھ عکس نا دیدہ سجاتا ہوں

مجھے صحرا نوردی راس آتی جا رہی ہے اب
خرابات چمن میں لالہ و سوسن اگاتا ہوں

مرے اس شوق سے دریا کنارے سب شناسا ہیں
جہاں طوفاں ہو موجوں کا وہاں لنگر اٹھاتا ہوں

تمہاری نغمہ‌ سنجی کی دکاں پر جو نہیں ملتا
وہی اک نغمۂ پر سوز میں سب کو سناتا ہوں

نہ جانے کس نگر آباد ہو جاتی ہیں وہ جا کر
میں اکثر شام کو چھت سے پتنگیں جو اڑاتا ہوں

پڑے ہیں آبلے لیکن قدم پھر بھی ہیں برجستہ
میں کب سے لاش اپنی اپنے کاندھوں پر اٹھاتا ہوں

ذوالفقار نقوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم