MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

پوچھے جو نشاں کوئی انجان نکلتے ہیں

غزل

پوچھے جو نشاں کوئی انجان نکلتے ہیں
ہم راہ گزاروں سے بے دھیان نکلتے ہیں

دل تازہ مراسم کے آغاز سے ڈرتا ہے
ملنے سے بچھڑنے کے امکان نکلتے ہیں

کس سمت کو جاتے ہیں اے راہ چمن آخر
لشکر گل و نکہت کے ہر آن نکلتے ہیں

گھر رہیے کہ باہر ہے اک رقص بلاؤں کا
اس موسم وحشت میں نادان نکلتے ہیں

تم عشق کے کوچے میں جاں نذر تو کر دیکھو
مرنے سے بھی جینے کے عنوان نکلتے ہیں

اس سایۂ مژگاں میں کچھ وقت گزارا ہے
ہم پر بھی ان آنکھوں کے احسان نکلتے ہیں

ہستی کی یہ زنجیریں یہ جسم کی دیواریں
ہم ساتھ لیے اپنا زندان نکلتے ہیں

ہم دیکھتے رہتے ہیں اس پیاس کے صحرا سے
کیا قافلۂ ابر و باران نکلتے ہیں

گل شاخوں پہ آتے ہیں کس عالم‌ افسوں سے
کسی غیب کی وادی سے انسان نکلتے ہیں

یہ عالم ہستی ہے یا خواب کی بستی ہے
جس سمت چلے جائیں حیران نکلتے ہیں

بنیاد تعلق ہے اک وہم شناسائی
سوچو تو سبھی چہرے انجان نکلتے ہیں

کس وقت نہیں رہتی آنکھوں میں وہ موج خوں
کب دل سے ترے غم کے پیکان نکلتے ہیں

جس حرف کے لکھنے میں ہو دل کا لہو شامل
اس حرف سے فردا کے رجحان نکلتے ہیں

ہے حرف سخن اپنا بس اپنی ہی خلوت میں
بازار میں یاروں کے دیوان نکلتے ہیں

دنیا کی محبت کا سودا نہ کبھی کرنا
اس سودے کے آخر میں نقصان نکلتے ہیں

لو صبح عدم آئی اب ہجر کی ساعت ہے
شب بھر کی سرائے سے مہمان نکلتے ہیں

سید فراست رضوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم