MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

پھر آئی فصل گل پھر زخم دل رہ رہ کے پکتے ہیں

غزل

پھر آئی فصل گل پھر زخم دل رہ رہ کے پکتے ہیں
مگر داغ جگر پر صورت لالہ لہکتے ہیں

نصیحت ہے عبث ناصح بیاں ناحق ہی بکتے ہیں
جو بہکے دخت رز سے ہیں وہ کب ان سے بہکتے ہیں

کوئی جا کر کہو یہ آخری پیغام اس بت سے
ارے آ جا ابھی دم تن میں باقی ہے سسکتے ہیں

نہ بوسہ لینے دیتے ہیں نہ لگتے ہیں گلے میرے
ابھی کم عمر ہیں ہر بات پر مجھ سے جھجکتے ہیں

وہ غیروں کو ادا سے قتل جب بے باک کرتے ہیں
تو اس کی تیغ کو ہم آہ کس حیرت سے تکتے ہیں

اڑا لائے ہو یہ طرز سخن کس سے بتاؤ تو
دم تقدیر گویا باغ میں بلبل چہکتے ہیں

رساؔ کی ہے تلاش یار میں یہ دشت پیمائی
کہ مثل شیشہ میرے پاؤں کے چھالے جھلکتے ہیں

بہار تیندو ہریش چندر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم