MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

چراغ بزم تری منصبی ہے کتنی دیر

چراغ بزم تری منصبی ہے کتنی دیر
شرر نژاد ہے تو زندگی ہے کتنی دیر

ہوائے دہر بھی ٹھہری ہے فرصتوں کی حریف
ترے خیال کی مہلت ملی ہے کتنی دیر

حریم ناز سے نکلی تو تیرے جسم کی بات
زبان خلق خدا پر رہی ہے کتنی دیر

اجاڑ دیں گے یہ موسم کے گرم و سرد تجھے
مثال سرو یہ خوش قامتی ہے کتنی دیر

سواد جاں میں مری جاں ثبات کس کو ہے
یہ تیرا قرب تری دوستی ہے کتنی دیر

جھلس گیا ہے بدن ہجر کی تمازت سے
تجھے خبر بھی نہیں ہو چکی ہے کتنی دیر

وہ پوچھتا ہے شب و روز مجھ سے قربت میں
کہ قربتوں کا یہ لمحہ رضیؔ ہے کتنی دیر

خواجہ رضی حیدر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم