MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

چمن میں کون ببولوں کی ڈال کھینچتا ہے

غزل

چمن میں کون ببولوں کی ڈال کھینچتا ہے
یہاں جو آتا ہے پھولوں کے گال کھینچتا ہے

وہ تیر بعد میں پہلے سوال کھینچتا ہے
سوال بھی جو سماعت کی کھال کھینچتا ہے

اے پیار بانٹنے والے میں خوب جانتا ہوں
کہ کتنی دیر میں مچھوارا جال کھینچتا ہے

نکل بھی سکتا ہوں قید تخیلات سے گر
وہ شخص کھینچ لے جس کا خیال کھینچتا ہے

میں اس کے آگے نہیں کھینچتا نیام سے تیغ
وہ شیرشاہ جو دشمن کی ڈھال کھینچتا ہے

یہ سرد صبح میں سویا شرارتی سورج
بس آنکھ کھلتے ہی پریوں کی شال کھینچتا ہے

میں ہوش مند ہوں خود بھی سو میری غزلوں میں
نہ رقص کرتا ہے عاشق نہ بال کھینچتا ہے

چراغ شرما

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم