MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

چہرے مکان راہ کے پتھر بدل گئے

چہرے مکان راہ کے پتھر بدل گئے
جھپکی جو آنکھ شہر کے منظر بدل گئے

شہروں میں ہنستی کھیلتی چلتی رہی مگر
جنگل میں باد صبح کے تیور بدل گئے

ہاں اس میں کامدیو کی کوئی خطا نہیں
رستے وفا کے سخت تھے دلبر بدل گئے

وہ آندھیاں چلی ہیں سر دشت آرزو
دل بجھ گیا وفاؤں کے محور بدل گئے

پھوٹی کرن تو جاگ اٹھی زندگی فضیلؔ
سنسان راستوں کے مقدر بدل گئے

فضیل جعفری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم