MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کب زلف دوتا ان کی پریشان نہیں ہے

غزل

کب زلف دوتا ان کی پریشان نہیں ہے
کب وحشت دل کا مری سامان نہیں ہے

یادوں کو لگائے ہوئے سینے سے گزر جا
یہ راہ محبت ہے کچھ آسان نہیں ہے

دنیا میں مجھے دولت جاوید ہے حاصل
کیا دل میں مرے آپ کا ارمان نہیں ہے

اے بادہ کشو ظرف کی کچھ بات کرو آج
ساقی کا یہاں عام اب احسان نہیں ہے

کیا پوچھتے ہو تمکنت حسن کا عالم
اب جیسے کرم کا کوئی امکان نہیں ہے

کچھ روز سے ہر نیشتر غم ہے گوارا
کیا یہ نگہ مست کا احسان نہیں ہے

ارمان امنگ حوصلہ امید بھی اس میں
کاشانۂ دل دوستو ویران نہیں ہے

یوں ملتے ہیں مجھ سے وہ سر بزم جمالیؔ
جیسے مری ان سے کوئی پہچان نہیں ہے

بدر جمالی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم