کتنی مشکل ہے یہ تکلیف گوارا کرنا
قرضِ جاں اپنا یہ ہے روز اتارا کرنا
ہم نے پہلے ہی کہا تھا کہ محبت نہ کرو
اس میں ہر موڑ پہ ہوتا ہے خسارا کرنا
جن کے ہونٹوں پہ ہنسی دل میں چبھن رہتی ہے
ایسے لوگوں سے مری جان کنارا کرنا
ہم محبت میں عداوت کے نہیں ہیں قائل
ہم کو آتا ہے رقیبوں میں گزارا کرنا
وہ ہی مشکل کو تو آسان کرے گا اپنی
نام اسکا ہی صبح شام پکارا کرنا
ڈوبنے والے کو مل جائیگا ساحل شائق
تم کنارے سے ذرا ایک اشارا کرنا
(سید شائق شہاب)