MOJ E SUKHAN
No Record Found
کرب تخلیق سے گزر کر دیکھزندگی کے لیے بھی مر کر دیکھ
کوئی موسم نہیں خزاں نہ بہاراپنے اندر ذرا اتر کر دیکھ
خالد علیگ
وہ دل نصیب ہوا جس کو داغ بھی نہ ملا
کوئی مُشکل ہو نکل جاتا ہوں آسانی سے
گدھوں کا مشاعرہ
عقل پہنچی جو روایات کے کاشانے تک
اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں
گناہوں سے نشو نما پاگیا دل
سبھی کو اپنا سمجھتا ہوں کیا ہوا ہے مجھے
میں سوچ سوچ کے آنکھوں کو نم نہیں کروں گا
کس نے کہا کسی کا کہا تم کیا کرو
آتش دلِ زار میں لگائی اس نے رباعی
تھا ہم سے بھی ربط یا کہ نہ تھا
جب سے وہ گئے ادھرنہیں یاد کیا رباعی
یہ حکم خدا کا کہ قطرہ مے کا نہ پیوں – Ye
مومن لازم ہے وضع مرغوب بنے
رباعیات حکیم عمر خیام نیشا پوری
کیا تیری جدائی میں ستم دیکھتے ہیں رباعی امیر مینائی
غائب بہت اے جان جہاں رہتے ہو رباعی امیر مینائی
باغوں میں جو قمریاں ہیں سب مٹی ہیں رباعی قلندر
سب ستارے لٹا دیۓ میں نے
ہوا کے واسطے اک کام چھوڑ آیا ہوں
ہوائے تیز ترا ایک کام آخری ہے
اک چراغِ آرزو پھر سے جلانا ہے مجھے
عشق جب تک جان و دل کا رہنما ہوتا نہیں
رازداں ہم نے بنایا آپ کو
جرم الفت کی سزا دینے لگے
از رہِ التفات بنتی ہے
میں نے تو درد کو سینے میں چھپا رکھا ہے
سنو اے باوفا لڑکے
تمہاری خاطر نقاب اوڑھوں نہ گھر سے نکلوں
تیرے جانے سے کچھ نہیں بدلا
ہو نے سر جو بدلا ہے
ادھر ادھر کی نہ تم سنانا بچھڑنے والے بتا کے جانا
آجکل دل کا عجب حال ہوا ہے جاناں
جا ترے بس میں نہیں یار محبت کرنا
نظم ہونے لگی
سنو میں مان لوں کیسے تمہیں مجھ سے محبت ہے