MOJ E SUKHAN

کون ہے کس کا یہ پیغام ہے کیا عرض کروں

غزل

کون ہے کس کا یہ پیغام ہے کیا عرض کروں
زندگی نامۂ گمنام ہے کیا عرض کروں

دے کے وہ دعوت نظارہ جہاں پھر نہ ملا
یہ وہی جلوہ گہ عام ہے کیا عرض کروں

زندگی اس نے بدل کر مری رکھ دی ایسی
نہ مجھے چین نہ آرام ہے کیا عرض کروں

حسرت و یاس کا مسکن ہے مرا خانۂ دل
سونا سونا یہ در و بام ہے کیا عرض کروں

آگے پیچھے ہے مرے ایک مصائب کا ہجوم
آج ناکامی بہر گام ہے کیا عرض کروں

میری قسمت میں لکھی تشنہ لبی ہے شاید
اس کے ہاتھوں میں بھرا جام ہے کیا عرض کروں

جب سے وہ خانہ بر انداز ہے سرگرم عمل
جس طرف دیکھیے کہرام ہے کیا عرض کروں

صبح امید کب آئے گی نہ جانے برقیؔ
مضطرب دل یہ سر شام ہے کیا عرض کروں

احمد علی برقی اعظمی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم