غزل
کیا کم ہے یہ بھی وعدۂ فردا کیا تو ہے
آئے نہ آئے اس نے مرا دل رکھا تو ہے
دل خون ہو گیا ہے مگر رائیگاں نہیں
روشن مرے لہو سے چراغ وفا تو ہے
بے ناخدا بھی پار اترتی ہیں کشتیاں
وہ جن کا ناخدا نہیں ان کا خدا تو ہے
وہ اس کا مسکرا کے مرا حال پوچھنا
اک حادثہ سہی سر راہے ہوا تو ہے
اے رہروان راہ محبت چلے چلو
منزل کا کیا ملے نہ ملے راستہ تو ہے
حالات سازگار نہیں ہیں تو کیا ہوا
طوفان ناگزیر سہی حوصلہ تو ہے
ہر دور سے ہے بزمؔ عبارت مری غزل
دیکھا نہیں جو دور وہ آخر پڑھا تو ہے
بزم انصاری