MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کیا کم ہے یہ بھی وعدۂ فردا کیا تو ہے

غزل

کیا کم ہے یہ بھی وعدۂ فردا کیا تو ہے
آئے نہ آئے اس نے مرا دل رکھا تو ہے

دل خون ہو گیا ہے مگر رائیگاں نہیں
روشن مرے لہو سے چراغ وفا تو ہے

بے ناخدا بھی پار اترتی ہیں کشتیاں
وہ جن کا ناخدا نہیں ان کا خدا تو ہے

وہ اس کا مسکرا کے مرا حال پوچھنا
اک حادثہ سہی سر راہے ہوا تو ہے

اے رہروان راہ محبت چلے چلو
منزل کا کیا ملے نہ ملے راستہ تو ہے

حالات سازگار نہیں ہیں تو کیا ہوا
طوفان ناگزیر سہی حوصلہ تو ہے

ہر دور سے ہے بزمؔ عبارت مری غزل
دیکھا نہیں جو دور وہ آخر پڑھا تو ہے

بزم انصاری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم