MOJ E SUKHAN

کیسا تارا ٹوٹا مجھ میں

کیسا تارا ٹوٹا مجھ میں
جھانک رہی ہے دنیا مجھ میں

کوئی پرانا شہر ہے جس کا
کھلتا ہے دروازہ مجھ میں

دیا جلا کے چھوڑ گیا ہے
کوئی اپنا سایا مجھ میں

بند ہوئی جاتی ہیں آنکھیں
کیسا منظر جاگا مجھ میں

آوازیں دیتا ہے مجھ کو
کوئی میرؔ کے جیسا مجھ میں

کوئی مجھ کو ڈھونڈھنے والا
بھول گیا ہے رستہ مجھ میں

خالی تھی گلدان میں ٹہنی
کھلا ہوا تھا شعلہ مجھ میں

برس رہی تھی بارش باہر
اور وہ بھیگ رہا تھا مجھ میں

اڑتا رہتا ہے راتوں کو
قیصرکوئی پرندہ مجھ میں

نذیر قیصر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم