MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

گزری جو رہ گزر میں اسے درگزر کیا

گزری جو رہ گزر میں اسے درگزر کیا
اور پھر یہ تذکرہ کبھی جا کر نہ گھر کیا

چشم سلیقہ ساز تو خاموش ہی رہی
رخصت پہ تیری دل نے بہت شور و شر کیا

آزردگان ہجر کی وحشت عجیب ہے
نکلے نہ گھر سے اور نہ آباد گھر کیا

بے برگ و بار جسم تھا محروم اعتبار
سرگرمئ صبا نے شجر کو شجر کیا

اپنے سوا کسی کو یہ دل مانتا نہ تھا
اس دل کو استوار تری آنکھ پر کیا

یہ عشق مرحلہ تو سفر در سفر کا ہے
اب دیکھنا ہے کس نے کہاں تک سفر کیا

ایسے کشادہ دست کہاں کے تھے ہم رضیؔ
شاید لحاظ زحمت دریوزہ گر کیا

خواجہ رضی حیدر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم