غزل
ہجوم میں بھی میں رہی اکیلی پر
تجھے میں ڈھونڈتی رہی نگر نگر
حیات کی یہ رہگزر ہے رہگزر
گزر گئی ہماری شب ہوئی سحر
پھر انجمن میں لگ سکا نہ میرا دل
کی اِختیار میں نے پھر الگ ڈگر
تلاش میں تری کہاں کہاں گئی
عجب طرح خیال نے کیا سفر
ستارہ وار روشنی میں ڈوبی پھر
ملی زمیں کی جب فلک سے یوں نظر
تمام عمر کی ہے دل سے یہ دُعا
تمہی رہو گے ہر سفر میں ہم سفر
مسلسل ان دُکھوں کو جھیلتی رہی
شجر میں پھر بھی کم لگے ثمرؔ مگر
ثمرین ندیم ثمر