MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ہر منزل میں ہر رستے میں سچ اپنے کام آیا ہے

غزل

ہر منزل میں ہر رستے میں سچ اپنے کام آیا ہے
ہم نے جھوٹے لوگوں کو اکثر گھر تک پہنچایا ہے

وعدہ شکن وہ لاکھ سہی پر مجھ کو حیراں کرنے کو
کبھی کبھی تو مجھ سے ملنے وعدہ پر بھی آیا ہے

چشم تماشا بھی شرمندہ حیرت میں آئینے بھی
وقت کی دھوپ نے کیسا کیسا چہروں کو جھلسایا ہے

وہ جو دیا روشن ہی نہیں ہے اس کے لئے رحمت کیسی
کیوں یہ تیز ہوا کا جھونکا گھر میں مرے در آیا ہے

ہم بھی اب سے بقول حالیؔ دنیا کو جھٹلائیں گے
آج تلک اس دنیا نے ہم سچوں کو جھٹلایا ہے

کس خاموشی سے پلٹی ہے خاورؔ وہ موج دریا
جس موج دریا نے مجھ کو ساحل پر پہنچایا ہے

رحمان خاور

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم