MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ہر نفس اک کشمکش میں مبتلا پاتا ہوں میں

ہر نفس اک کشمکش میں مبتلا پاتا ہوں میں
زندگانی کو سکوں نا آشنا پاتا ہوں میں

پھر دیا شاید زمانے نے کوئی زخمِ شدید
درد کچھ معمول سے دل میں سوا پاتا ہوں میں

خود بخود ہر گام پر جھکتی رہی میری جبیں
چپے چپے پر ترا ہی نقشِ پا پاتا ہوں میں

جس سے بھی دل کو ہوئی کچھ انسیت وہ کھو گئی
دہر کی ہر شے وفا نا آشنا پاتا ہوں میں

آ گیا ہوں آج میں کس اجنبی ماحول میں
اپنی فطرت اپنی ہستی سے جدا پاتا ہوں میں

شیشہء دل میں کہیں پھر لگ گئی اے شاد ٹھیس
جام ہائے چشم کا چھلکا ہوا پاتا ہوں میں

شاد بہٹوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم