غزل
ہم کیا کہیں کہ آبلہ پائی سے کیا ملا
دنیا ملی کسی کو کسی کو خدا ملا
ہم خود کو دیکھنے کے تو لائق نہ تھے مگر
ہر آئنہ ہماری طرف دیکھتا ملا
ایسا تھا کون روح کے اندر جو دیکھتا
ہر سعبدطح میں وگرنہ ہمیں جانچتا ملا
انسان اور وقت میں کب دوستی رہی
ہر لمحہ آدمی کا لہو چاٹتا ملا
انساں سمجھ کے ہم نے اسے دل میں رکھ لیا
انساں کے روپ میں مگر اک دیوتا ملا
دل دار بھی ملے ہمیں پر اس کو کیا کریں
کوئی خیال سا تو کوئی خواب سا ملا
عبد اللہ جاوید