MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ہنسی لبوں پہ ہے دل میں شگفتگی تو نہیں

غزل

ہنسی لبوں پہ ہے دل میں شگفتگی تو نہیں
یہ اک لطیف سا دھوکہ ہے زندگی تو نہیں

سمجھ رہا ہوں کہ اپنا بنا لیا ہے انہیں
اسی کا نام محبت کی سادگی تو نہیں

لگا رہا ہوں لبوں کی ہنسی سے اندازہ
کہ میرے غم کی طلب میں کوئی کمی تو نہیں

نفس نفس پہ یہ ہوتا ہے کیوں مجھے محسوس
حیات تجھ سے الگ رہ کے خود کشی تو نہیں

مرے قریب سے بیگانہ وار گزرا ہے
میں اجنبی اسے سمجھوں وہ اجنبی تو نہیں

یہ کس لیے مری آنکھوں میں آ گئے آنسو
خیال خاطر احباب میں کمی تو نہیں

یہ کس خوشی میں مناتے ہیں جشن اہل چمن
کلی کا خون ہوا ہے کلی ہنسی تو نہیں

نفس نفس میں ہے مانوس نکہتوں کا خرام
چھپا ہوا کوئی میرے قریب ہی تو نہیں

سمجھ رہا ہوں جسے برق کی چمک شاعرؔ
کہیں وہ میرے نشیمن کی روشنی تو نہیں

شاعر لکھنؤی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم