MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ہے برہم پھر مزاج ان کا دل ناکام کیا ہوگا

غزل

ہے برہم پھر مزاج ان کا دل ناکام کیا ہوگا
یہی صورت رہی تو عشق کا انجام کیا ہوگا

خلش دل میں جگر میں درد لب پر مہر خاموشی
یہ صورت ہے تو پھر مجھ کو بھلا آرام کیا ہوگا

یہ بزم ناز ہے اے دل یہاں بہتر ہے خاموشی
سنا کر ان کو اپنا قصۂ آلام کیا ہوگا

یہی ہے زہد کا عالم تو پھر اے حضرت ناصح
شراب حوض کوثر کا چھلکتا جام کیا ہوگا

ابھی سے آنکھ میں آنسو ہیں لب پر آہ دل میں درد
یہ آغاز محبت ہے تو پھر انجام کیا ہوگا

خدارا یہ بھی سوچو اے چمن کے چھوڑنے والو
ہیں جو صحن‌ چمن میں ان کا اب انجام کیا ہوگا

کوئی بدنام ہو جائے تو اس کو بھی بہت سمجھو
ہے یہ دوری خودی اس میں کسی کا نام کیا ہوگا

ابھی تو شب ہے آؤ پیار کی باتیں کریں ہم تم
ابھی سے کیوں یہ سوچیں صبح کا پیغام کیا ہوگا

جدھر دیکھو ادھر ظلمت نظر آتی ہے اے کشفیؔ
سحر کا رنگ ہے جب یہ تو رنگ شام کیا ہوگا

کشفی لکھنوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم