MOJ E SUKHAN

یاد موسم وہ پرانے آئے

غزل

یاد موسم وہ پرانے آئے
زخم ہنسنے کے زمانے آئے

دل کی دہلیز پہ یادوں کے سوا
کون آواز لگانے آئے

اب کہاں تاب لہو رونے کی
اب نہ وہ خواب دکھانے آئے

لوگ جیتے ہیں لہو پی کے یہاں
ہم کہاں پیاس بجھانے آئے

کہہ گئے بات جو سچ تھی ورنہ
یاد کتنے ہی بہانے آئے

ہر غزل میں ہے چھپا وہ چہرہ
کوئی گھونگھٹ تو اٹھانے آئے

شاخ پھولوں سے جھکی جاتی ہے
کوئی تو ہاتھ بڑھانے آئے

صبح جب ہو تو قمرؔ مثل صبا
پھول رکھنے وہ سرہانے آئے

قمر اقبال

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم