MOJ E SUKHAN

یوں تو کل ہوں گے فسانہ ہم لوگ

یوں تو کل ہوں گے فسانہ ہم لوگ
آج لیکن ہیں زمانہ ہم لوگ

اڑتے رہتے ہیں پرندوں کی طرح
ڈھونڈتے کب ہیں ٹھکانہ ہم لوگ

جو کھلی رکھتے ہیں آنکھیں اپنی
ان کو کہتے ہیں دوانہ ہم لوگ

ہم جو کر لیتے بھروسہ تم پر
بن گئے ہوتے نشانہ ہم لوگ

مسکرانے کے لیے ڈھونڈتے ہیں
مسکرانے کا بہانہ ہم لوگ

سیکھ لو ہم سے سبق الفت کا
پاس رکھتے ہیں خزانہ ہم لوگ

ہم بھی کچھ کم تو نہیں ہیں ثاقب
تو یگانہ تو یگانہ ہم لوگ

سہیل ثاقب

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم