MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

یُونہی تو شاخ سے پتے گِرا نہیں کرتے ​

یُونہی تو شاخ سے پتے گِرا نہیں کرتے ​
بچھڑ کے لوگ زیادہ جیا نہیں کرتے ​

​جو آنے والے ہیں موسم، اُنہیں شمار میں رکھ ​
جو دن گزر گئے، اُن کو گنا نہیں کرتے ​

​نہ دیکھا جان کے اُس نے ، کوئی سبَب ہوگا ​
اِسی خیال سے ہم دل بُرا نہیں کرتے ​

​وہ مل گیا ہے تو کیا قصۂ فِراق کہیں 
خُوشی کے لمحوں کو یُوں بے مزا نہیں کرتے ​

​نِشاطِ قُرب، غم ہجر کے عوض مت مانگ ​
دُعا کے نام پہ یُوں بددُعا نہیں کرتے ​

​مُنافقت پہ جنہیں اِختیار حاصل ہے ​
وہ عرض کرتے ہیں ، تجھ سے گِلہ نہیں کرتے ​

​ہمارے قتل پہ محسن یہ پیش و پس کیسی ​
ہم ایسے لوگ طلب خُون بہا نہیں کرتے ​

محسن بھوپالی​

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم