MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

یہ کِس ڈھب کے اجالے ہو رہے ہیں

یہ کِس ڈھب کے اجالے ہو رہے ہیں
اندھیرے اور گہرے ہو رہے ہیں

تو کیا اب حسن تیرا ڈھل رہا ہے
ترے بیمار اَچھّے ہو رہے ہیں

ترے نزدیک اگر کوئی نہیں ہے
تو پھر یہ کام کیسے ہو رہے ہیں

بجھائے پیاس کون اب قافلوں کی
کنویں بھی اب تو پیاسے ہو رہے ہیں

کسی کا عشق نیلا پڑ رہا ہے
کسی کے ہاتھ پیلے ہو رہے ہیں

جہاں میں باعثِ رونق ہوئے جو
وہ سب اللہ کو پیارے ہو رہے ہیں

ہوا ہے ہاتھ جب سے تنگ نازش!
مرے اپنے پرائے ہو رہے ہیں

شبیر نازش

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم