MOJ E SUKHAN

آسماں پر اک ستارہ شام سے بیتاب ہے

غزل

آسماں پر اک ستارہ شام سے بیتاب ہے
میری آنکھوں میں تمہارا غم نہیں ہے خواب ہے

رات دریا آئنے میں اس طرح آیا کہ میں
یہ سمجھ کر سو گیا دریا نہیں اک خواب ہے

کامنی صورت میں بھی اک آرزو ہے محو خواب
سانولی رنگت میں بھی اک وصل کا کمخواب ہے

میری خاطر کچھ سنہری سانولی مٹی بھی تھی
ورنہ اس کا جسم سارا روشنی کا خواب ہے

آسماں اک بستر سنجاب لگتا ہے مجھے
اور یہ قوس قزح جیسے کوئی محراب ہے

کس کے استقبال کو اٹھے تھے دیوانوں کے ہاتھ
کس کے ماتم کو یہاں یہ مجمع احباب ہے

یا الہ آباد میں رہیے جہاں سنگم بھی ہو
یا بنارس میں جہاں ہر گھاٹ پر سیلاب ہے

اس نہنگ تشنہ سے زور آزما ہو کر جمیلؔ
بھول مت جانا کہ آگے بھی وہی گرداب ہے

قمر جمیل

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم