MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

اب اپنی جفا یاد نہ عاشق کی وفا یاد

اب اپنی جفا یاد نہ عاشق کی وفا یاد
او بھولنے والے تجھے کچھ بھی نہ رہا یاد

جب دل سے اٹھائے نہ گئے ظلم بتوں کے
آیا اسے فریاد کے پردے میں خدا یاد

آگے ترے دم بھول گئے چارہ گر ایسا
جینے کی دوا یاد نہ مرنے کی دعا یار

کچھ پاس محبت ہے جو خاموش ہوں اب تک
ایک ایک ستم یاد ہے ایک ایک جفا یاد

کیا اور کوئی ظلم بھی ہے اس سے زیادہ
مرتے ہوئے عاشق کو بھی تم نے نہ کیا یاد

اس عیش کی تصویر نے سب رنج مٹائے
صورت کو تری دیکھ کے کچھ بھی نہ رہا یاد

اب سورج ہے ہو جو شکایت ہے جفا کی
اس یاد کے صدقے نہ رہی اپنی جفا یاد

زحمت کش گیسو ہوں تو کیا طرہ ہے مجھ میں
کرتی ہے مجھے اس بت کافر کی بلا یاد

جب ٹیس مرے زخم جگر میں ہوئی افسرؔ
تیرِ نگہ ناز کی شوخی کو کیا یاد

افسر صدیقی امروہوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم