MOJ E SUKHAN

المیہ

المیہ

یہ گونگے بہرے بھی حکمراں ہیں
یہ ذہنی مفلوج میری ملت کے ترجماں ہیں
جنہیں وراثت میں حکمرانی ملی ہوئی ہے
شکم میں جن کی حرام لقموں نے گھر کیا ہے
میں سچ کہوں تو
یہ سارے وردی کے پیدا کردہ
سروں پہ بوٹوں کا سایہ لے کر
امین و صادق بنے ہوئے ہیں
یہ چور اچکے گزشتہ کتنی دہائیوں سے
مرے ہی بچوں کی خواہشوں کو
نگل رہے ہیں حواس جذبے پگھل رہے ہیں
عجیب صورت بنی ہوئی ہے
بہت سے بے باک سر پھرے بھی
دبک کے کونے سے جا لگے ہیں
تماش بینوں کے ساتھ مل کر تماشہ تکنے میں لگ گئے ہیں
ہجوم مل کر یہ کہہ رہا ہے
نہ دیکھو کچھ بھی نہ بولوکچھ بھی
خموش رہنے میں عافیت ہے
سو زندہ لاشے
قدم بڑھانے سے ڈر رہے ہیں
گھٹن سے ہر لحظہ مر رہے ہیں
گھٹن سے ہر لحظہ مر رہے ہیں

ماجد جہانگیر مرزا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم