غزل
اک عجب سی صورت حالات ہے
دن بھی لگتا ہے کہ جیسے رات ہے
کون خوشیوں کو چرا کر لے گیا
کون غم کی دے گیا سوغات ہے
کھیتیوں میں بھوک ہے اگنے لگی
اس دفعہ کیسی ہوئی برسات ہے
لوگ ہیں سہمے ہوئے حالات سے
مل رہی بارود کی سوغات ہے
کوئی بھی ساغرؔ نہیں شاداں یہاں
عید کیا ہے اور کیا شبرات ہے
عبد المجید ساغر