MOJ E SUKHAN

ایک چہرہ ہدف بنانے پر

غزل

ایک چہرہ ہدف بنانے پر
دھر لیا کیوں ہمیں نشانے پر

سوچتا ہوں یہ کیا تسلسل ہے
ٹوٹ جاتا ہے سانس آنے پر

سارے موتی بکھرتے جاتے ہیں
ایک دھاگے کے ٹوٹ جانے پر

ہجر پیچھے ہی پڑ گیا میرے
چند لمحوں کو گدگدانے پر

انگلیاں نجمؔ خود پہ اٹھنے دے
تو نہ انگلی اٹھا زمانے پر

جی اے نجم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم