Bus Itna jantay hain Ham nawa khuda aur main
غزل
بس اتنا جانتے ہیں ہم نوا، خدا اور میں
تمہارے ساتھ رہیں گے سدا، خدا اور میں
یہ ایسا ظلم ہے جس پر سبھی لرز اٹھیں!
فلک, زمین، فرشتے، مرا خدا اور میں۔
تجھے جہان دیا، ٹھہری آخرت میری
مگر یہ فیصلہ کر لیں ذرا، خدا اور میں
قریب ہے وہ زیادہ مری رگِ جاں سے
ہیں ایک دوسرے سے کب جدا، خدا اور میں
تو جانتا ہی نہیں ہے میں کس کا بندہ ہوں
سو دیکھ لیں گے تجھے بے وفا، خدا اور میں
ڈاکٹر عدنان خالد
Doctor Adnan Khalid