MOJ E SUKHAN

تمام پھینکے گئے پتھروں پہ بھاری تھا

تمام پھینکے گئے پتھروں پہ بھاری تھا
وہ ایک پھول اکیلا سبھوں پہ بھاری تھا

نہ مجھ سے دل نے بتایا نہ میں نے ہی جانا
وہ کیسا غم تھا جو سارے غموں پہ بھاری تھا

میں ان کی رہ سے گزرتا نہ تھا مگر پھر بھی
مرا وجود مرے دشمنوں پہ بھاری تھا

اگرچہ بیٹھا تھا میں ان کے درمیاں خاموش
مرا سکوت مگر شاعروں پہ بھاری تھا

وہ جس کا کوئی نہ تھا دور اک خدا کے سوا
زمیں کا بوجھ نہ فرخؔ دلوں پہ بھاری تھا

فرخ جعفری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم