غزل
تیرے جیسا کمال کر لیتا
میں بھی رنجش بحال کر لیتا
رسم الفت کا پاس ہے ورنہ
غیر خود پہ حلال کر لیتا
تو دھڑکتا اگر نہ سینے میں
سانس دھڑکن کو ٹال کر لیتا
اہل دنیا تو اہل دنیا ہیں
تو تو میرا خیال کر لیتا
پھول سے دوستی نبھانی تھی
کم سے کم آنکھ لال کر لیتا
جی اے نجم