MOJ E SUKHAN

جنون شوق محبت ہے کیا کیا جائے

غزل

جنون شوق محبت ہے کیا کیا جائے
یہی تو رنگ طبیعت ہے کیا کیا جائے

جو اپنے ہاتھ میں پتھر اٹھائے پھرتے ہیں
انہیں سے مجھ کو عقیدت ہے کیا کیا جائے

زمانہ میرے فسانے سے خوب واقف ہے
کسی کو پھر بھی شکایت ہے کیا کیا جائے

کوئی یہ جا کے بتا دے مرے رقیبوں سے
مجھے تو ان سے بھی الفت ہے کیا کیا جائے

میں جب بھی ملتا ہوں دل میرا صاف ہوتا ہے
ادھر تو شعلۂ نفرت ہے کیا کیا جائے

ہے دل میں بغض و عناد و حسد ریا کاری
انہیں کی صرف یہ عادت ہے کیا کیا جائے

سمجھ سکے نہ وہ اب تک ہواؤں کے رخ کو
مزاج اہل سیاست ہے کیا کیا جائے

غصب جو کرتا ہے اب بھی حقوق اوروں کے
سنا ہے صاحب ثروت ہے کیا کیا جائے

ہیں بت چھپائے ہوئے اپنی آستینوں میں
زباں پہ کلمۂ وحدت ہے کیا کیا جائے

اسی کو آج بھی بسملؔ نوازتا ہے جہاں
جو ننگ فہم و فراست ہے کیا کیا جائے

بسمل اعظمی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم