MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

جیون راہ پہ چلتے چلتے مڑ کر دیکھا برسوں بعد

جیون راہ پہ چلتے چلتے مڑ کر دیکھا برسوں بعد
کیا کھویا کیا پایا ہم نے آج یہ جانا برسوں بعد

ایک ذرا سی دیر میں برسوں کی خاموشی ٹوٹ گئی
کس نے سمے کی جھیل میں پہلا پتھر پھینکا برسوں بعد

بیٹھے بیٹھے آج کسی کی یاد نے یوں انگڑائی لی
اشکوں کا بے موسم بادل ٹوٹ کے برسا برسوں‌بعد

مدت بعد ملے ہم دونوں تو ایسا محسوس ہوا
وقت نے اک تصویر کے دو ٹکڑوں کو جوڑا برسوں بعد

رات مرے کمرے میں‌کوئی سایہ سا لہرایا تھا
نیند اڑی آنکھوں نے شاید سپنا دیکھا برسوں‌بعد

تعبیروں کے کھوج میں‌ آخر اپنا آپ گنوا بیٹھے
انصر اپنا ہر اک سپنا جھوٹا نکلا برسوں بعد

(سید انصر)​

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم