ٖغزل
جی رہے ہیں اس جہاں میں ایک لاشے کی طرح
لوگ ہم کو دیکھتے ہیں اب تماشے کی طرح
یوں محبت کے تقاضے ہم نبھاتے ہی رہے
آرزؤں کو اٹھایا ہے جنازے کی طرح
دشمنوں سے بڑھ کے اپنوں نے کئے اتنے ستم
خوف طاری ہو گیا کانپے ہیں سائے کی طرح
اپنی منزل سے بچھڑ کے ہم نے اب یہ طے کیا
بھول جائیں گے تجھے بھی تیرے وعدے کی طرح
زندگی کے گلستاں میں رو پڑی آ کر بہارؔ
آنسوؤں کو پھر لگایا اس نے غازے کی طرح
بہار النساء بہار