حرف زن ہو جو کوئی پینے پر
چوٹ پڑتی ہے آبگینے پر
عشق جب کوئ مسئلہ ہی نہیں
سانپ کیوں لوٹتے ہیں سینے پر
ناخدائی کا بھید کھُلنے لگا
نوحہ خواں ہیں بھنور سفینے پر
جسے کہتے ہیں رنگ کالا لوگ
خوب جچتا ہے اُس کمینے پر
بد دعا اور دوستوں کے لیے
تُف ہے اُس آدمی کے جینے پر
شبِ وصلت بھی دونوں کُھل نہ سکے
ناگ بیٹھا رہا خزینے پر
دلِ عاشق ! اور اِس قدر بے داغ
کندہ کاری کرو نگینے پر
ہے بِنائے تعلقات آصف
ہفتہ ‘ دو ہفتے ‘ حد مہینے پر
آصف جاوید