MOJ E SUKHAN

حسرتیں اندر ہی اندر پیتے لوگ

حسرتیں اندر ہی اندر پیتے لوگ
جی رہے ہیں کس طرح گھٹ گھٹ کے لوگ

تو فلک کی وسعتوں میں رہنے والا
ہم زمیں کے مسئلوں میں الجھے لوگ

ایک ہے قاتل ادھر مقتول اِدھر
کیسے ہو سکتے ہیں یہ اک جیسے لوگ

کچھ اِدھر آئے اُدھر کچھ رہ گئے
دوریاں تو ہیں مگر ہیں اپنے لوگ

آ اُتر کر دیکھ دھرتی پر ذرا
جی رہے ہیں کس طرح مر مر کے لوگ

دیکھتا ہے شہر کا کب شہر یار
اپنے سر پر اپنی لاشیں دھرتے لوگ

اصل پر غالب بناوٹ آ گئی
بھائیں گے منصور کیا ہم جیسے لوگ

منصور سحر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم