MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

مٹی کی عمارت سایہ دے کر مٹی میں ہموار ہوئی

مٹی کی عمارت سایہ دے کر مٹی میں ہموار ہوئی
ویرانی سے اب کام ہے اور ویرانی کس کی یار ہوئی

ڈر ڈر کے قدم وہ رکھتا ہے خوابوں کے صحرا میں
یہ ریگ ابھی زنجیر بنی یہ چھاؤں ابھی دیوار ہوئی

ہر پتی بوجھل ہو کے گری سب شاخیں جھک کر ٹوٹ گئیں
اُس بارش ہی سے فصل اجڑی جس بارش سے تیار ہوئی

اب یہ بھی نہیں ہے بس میں کہ ہم پھولوں کی ڈگر پر لوٹ چلیں
جس راہ گزر پر چلنا ہے وہ راہ گزر تلوار ہوئی

چھوتی ہے جب ذرا تن کو ہوا چبھتے ہیں رگوں میں کانٹے سے
سو بار خزاں آئی ہوگی محسوس اسے مگر اس بار ہوئی

وہ نالے ہیں بےتابی کے چیخ اٹھا ہے سناٹا بھی
یہ درد کی شب معلوم نہیں کب تک کیلئے بیدار ہوئی

لکھی ہیں شکستیں اتنی جہاں مقتل میں وہاں یہ بھی لکھ دو
کتنی شمشیریں ٹوٹ گئیں کتنے دشمنوں کی ہار ہوئی

اب غیر ہوا کتنی ہی چلے اب گرم فضا کتنی ہی رہے
سینے کا زخم چراغ بنا دامن کی آگ بہار ہوئی

محشر بدایونی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم