MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

حسن کو چاند جوانی کو کنول کہتے ہیں

غزل

حسن کو چاند جوانی کو کنول کہتے ہیں
ان کی صورت نظر آئے تو غزل کہتے ہیں

اف وہ مرمر سے تراشا ہوا شفاف بدن
دیکھنے والے اسے تاج محل کہتے ہیں

وہ ترے حسن کی قیمت سے نہیں ہیں واقف
پنکھڑی کو جو ترے لب کا بدل کہتے ہیں

پڑ گئی پاؤں میں تقدیر کی زنجیر تو کیا
ہم تو اس کو بھی تری زلف کا بل کہتے ہیں

قتیل شفائی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم