MOJ E SUKHAN

خاموشی کا جنگل تھا تنہائی تھی

خاموشی کا جنگل تھا تنہائی تھی
میں نے اپنی بستی دور بسائی تھی

کانوں نے آواز کے بالے پہنے تھے
سنّاٹوں نے ایسی دھوم مچائی تھی

برف رتوں میں بے حس ہو کر مر جاتا
خود کو آگ لگا کر جان بچائی تھی

اپنی دنیا آپ بنائی ہے میں نے
تیرے آگے دنیا بنی بنائی تھی

تم کیا سمجھے خود کو بیچ رہا ہوں میں
یہ تو ویسے ہی قیمت لگوائی تھی

رانا سعید دوشی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم