MOJ E SUKHAN

درد

سرسراہٹ ہے
نہ آہٹ ہے
نہ ہلچل
نہ چبھن
درد چپ چاپ
کسی دھیمی ندی کی صورت
سانس لیتی ہوئی
گانٹھوں میں
اتر آیا ہے
کتنے برسوں کی
ریاضت سے
ہنر مندی سے
ایسے بکھرے ہوئے
ریشوں کو سمیٹا ہے مگر
اور ہر بار
ہر اک بار
بہت جتنوں سے
جسم کو جان سے
جوڑا ہے مگر
بے سبب سانس کی کٹتی ڈوری
کب سے تھامے ہوئے
بیٹھے ہیں مگر
آج نہیں
یا کہیں درد تھمے
اور سکوں مل جائے
یا کوئی گانٹھ کھلے
اور قرار آ جائے

گلناز کوثر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم