MOJ E SUKHAN

دل اب اس دل شکن کے پاس کہاں

غزل

دل اب اس دل شکن کے پاس کہاں
چیل کے گھونسلے میں ماس کہاں

صبر بیمار عشق کی ہے دوا
پر طبیعت سے میری راس کہاں

صبح آنے کا اس کے وعدہ ہے
مجھ کو پر رات بھر کی آس کہاں

دشمن جاں کو دوست سمجھا میں
وہ کہاں میں کہاں قیاس کہاں

کیا ہوا اس کو دیکھتے ہی بیاںؔ
ہوش کیدھر گئے حواس کہاں

بیاں احسن اللہ خاں

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم