MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

رفوئے دامن صد تار تار رہنے دے

غزل

رفوئے دامن صد تار تار رہنے دے
جو رہ گئی ہے وہی یادگار رہنے دے

وفا نہیں نہ سہی رشتۂ جفا ہی سہی
وہ رابطہ تو کوئی برقرار رہنے دے

وہ بات کر کہ جو میرے لیے عجیب نہ ہو
میں اور تجھ کو مرا انتظار رہنے دے

ہمارا حال سر راہ پوچھنے والے
یہ التفات سر رہ گزار رہنے دے

مری شکست انا کا خیال کر ظالم
بھرم کچھ اے دل بے اختیار رہنے دے

یہ دل ہی بزمؔ ابھی لائق مراد نہیں
ابھی کچھ اور اسے بے قرار رہنے دے

بزم انصاری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم