MOJ E SUKHAN

زمانے کی ستائی خودکشی ہے

غزل

زمانے کی ستائی خودکشی ہے
محبت ابتدائی خودکشی ہے

جہاں سفاک آنکھیں گھات میں ہوں
وہاں چہرہ نمائی خودکشی ہے

میں رائے عشق پر اب اور کیا دوں
کہا تو ہے کہ بھائی خودکشی ہے

میں اس کو پھول دے کر خوش نہیں ہوں
کہ یہ بھی دلربائی خودکشی ہے

یہ استعمال کرنے پر کھلا ہے
کہ خوشبو کیمیاٸی خودکشی ہے

شکاری گھات میں بیٹھا ہو تو پھر
پرندے کی رہائی خودکشی ہے

کسی تتلی کا مر جانا عزیزو
حقیقت میں نسائی خودکشی ہے

اعجاز توکل

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم